READ THIS

Air Lines Tickets Book karnay k liye / Emaan-o-Yaqeen k waqiyaat / Deen-e-Islam ki khobsorat aor sahi malomaat hasil karnay k liye hamari Website visit karain www.mydailyroutine2333.blogspot.com

NATIONAL ANTHEM: Qaumi Taranay k ehtraam main khara hona kya waqeyi 'SHIRK' hai?


NATIONAL ANTHEM: Qaumi Taranay ki ehtraam main khara hona kya waqeyi 'SHIRK' hai?


قومی ترانے کے احترام میں کھڑا ہونا کیا واقعی شرک ہے؟

نہیں ، قومی ترانے کے احترام میں کھڑا ہونا شرک تو نہیں ہے لیکن ہم لوگوں نے اسے شرک بنا دیا ہے

شرک کی بہت ساری قسمیں ہیں،  شرک صرف بتوں کے سامنے سجدہ کرنے کو نہیں کہا جاتا 

 دنیا کی جتنی بھی محبتیں ہیں، ہر محبت کی اپنی ایک حد مقرر ہے .

دنیا کی محبت جب تک اپنی مقرر کردہ حد میں رہتی ہے تو اس سے ہر طرف اچھائی اور خیر پھیلتی رہتی ہے.

لیکن جب دنیا کی محبت اپنی مقرر کردہ حد سے باہر نکل جاتی ہے تو اس سے کبھی بھی اچھائی نہیں پھیلتی.

محبت چاہے اولاد سے ہو یا بیوی سے ہو یا پیسوں سے ہو یا چیزوں سے ہو یا پھر وطن سے ہو....  یہ ساری محبتیں جب تک الله تعالیٰ اور ہمارے پیارے نبی اور آخری نبی حضرت محمّد

ﷺ سے محبت میں نیچے نیچے رہیں گی تو اس وقت تک

ہماری زنگی درست سمت میں رہے گی.


اور جب ہمیں اولاد سے محبت ،  بیوی سی محبت ، دولت سے محبت ، دنیا کی

چیزوں سے محبت اور وطن سے محبت زیادہ ہو جائے گی اور 

الله تعالیٰ اور ہمارے پیارے نبی اور آخری نبی حضرت محمّد

ﷺ سے محبت  اور عظمت ہمارے 

دلوں میں کم ہو جائے گی... تو اسی وقت ہماری زندگی صراط مستقیم (سیدھے

راستے) سے اتر جائے گی.


یہی بات 

ہمارے پیارے نبی اور آخری نبی حضرت محمّد

ﷺ سے فرمائی جس کا مفہوم یہ ہے کہ  کسی مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس کے دل میں مجھ سے محبت اپنی اولاد سے ، اپنے مال سے ، اپنے ماں باپ سے ، وطن سے اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کرنہ ہو جائے.


لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اب تک ایسا ہوا نہیں اور نہ ہی اس کی لیے کوئی کوشش کی جا رہی ہے.

NATIONAL ANTHEM: Qaumi Taranay k ehtraam main khara hona kya waqeyi 'SHIRK' hai?

 اسی لئے ڈاکٹر اسرار صاحب (جو بہت بڑے الله والے ہیں ) نے اپنے بیان میں کہا کہ میں جب کسی تقریب میں جاتا ہوں تو وہاں تقریب کے آغاز میں قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے اور سب لوگ کھڑے لیکن میں کھڑا نہیں ہوتا.. میں بیٹھا رہتا ہوں.

ڈاکٹر اسرار صاحب (جو بہت بڑے الله والے ہیں ) انہوں نے کہا کہ یہ اس لیے ہوا کہ آج ہمارے دلوں میں الله کی محبت اور الله کے رسولﷺ سے محبت انتہائی نیچے جا چکی ہے اور وطن سے محبت آج ہمارے دلوں میں بہت اوپر جا چکی ہے اور اپنی مقرر کردہ حد پار کر چکی ہے.

ڈاکٹر اسرار صاحب (جو بہت بڑے الله والے ہیں ) انہوں نے کہا کہ ان حالات میں جو لوگ قومی ترانہ سنتے وقت کھڑے ہوتے ہیں اور حقیقت میں وطن کی نماز پڑھ رہے ہیں. 

اور ڈاکٹر اسرار صاحب کی یہ بات ہر انسان کی سمجھ میں آنے والی بات ہے اور انہوں نے بلکل سادہ الفاظ میں بتانے کی کوشش کی.

دوستو!  یہ بات جو ڈاکٹر اسرار صاحب نے کہی یہ میں نے اسلام آباد میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے.

اسلام آباد میں ایک تقریب ہو رہی تھی اور اس تقریب کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا اور جب قرآن پاک کی تلاوت شروع ہوئی تو دوران تلاوت تقریب کے شرکاء آپس میں بات چیت کرتے رہے اور قرآن پاک کی عظمت کا کسی کو خیال نہ آیا (ممکن ہے چند لوگوں کو خیال آیا ہو اور انہوں نے توجہ سے سنا ہو) لیکن مجموئی صورت حال اس تقریب میں یہی تھی کہ کسی نے قرآن پاک کی تلاوت کو توجہ سے اور غور سے نہیں سنا.

لیکن میں نے یہ دیکھا کہ جب قرآن پاک کی تلاوت اختتام پزیر ہوئی اور اس کے بعد قومی ترانہ شروع ہوا تو اسی تقریب میں پورے قومی ترانے کی دوران کسی نے آپس میں کوئی بات چیت نہیں کی، سب لوگ قومی ترانے کی احترام میں کھڑے ہو گئے اورپوری توجہ سے اور پورے غور سے قومی ترانہ سنا گیا اور قومی ترانے سے اور وطن سے اپنی محبت کا اظہار کیا گیا.

تو دوستو! اس بات سے پتا چلتا ہے کہ قرآن پاک کی محبت اور عظمت کتنی ہے اور الله کے دین کی محبت اور عظمت ہمارے دلوں میں کتنی ہے  اور  وطن سے محبت اور وطن کی عظمت ہمارے دلوں میں کتنی ہے؟

میرے پیارو!  اس لئے ڈاکٹر اسرار صاحب (جو بہت بڑے الله والے ہیں ) انہوں نے کہا کہ جب وطن سے محبت اس قدر ہو جائے کہ وطن زندہ باد یعنی جو چیز میرے وطن کے لئے ٹھیک ہے وہ میں کروں گا چاہے وہ بات غلط ہی کیوں نہ ہو اور حرام ہی کیوں نہ ہو اور الله تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہی کیوں نہ ہو..

ڈاکٹر اسرار صاحب نے کہا کہ یہ وطن پرستی ہے اور وطن پرستی کی ایک نماز بھی ہے کہ ترانہ پڑھا جا رہا ہو تو کھڑے ہو جاؤ خلوس کے ساتھ.

NATIONAL ANTHEM: Qaumi Taranay k ehtraam main khara hona kya waqeyi 'SHIRK' hai?

ڈاکٹر اسرار صاحب (جو بہت بڑے الله والے ہیں ) انہوں نے کہا کہ کھڑے ہو جانا عبادت کا حصہ ہے، وطن کا جھنڈا اس کو سلامی دینا.

تو دوستو! اس لئے ڈاکٹر اسرار صاحب (جو بہت بڑے الله والے ہیں ) انہوں نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ  جھنڈے کو سلامی دینا شرک ہے اور قومی ترانے کے وقت کھڑا ہونا شرک ہے.

اور میں ڈاکٹر اسرار صاحب (جو بہت بڑے الله والے ہیں ) ان کی اس بات سے بلکل اتفاق کرتا ہوں کہ انہوں نے بلکل درست کہا.

تو دوستو! میں نے اور آپ نے خود کو ان غلط رسموں اور رواجوں سے بچانا ہے.

دوستو! یہ آج کے زمانے کے بت ہیں اور آج کے زمانہ کا بد ترین شرک ہے اور اس سے ہم سب کو بچنا ہے.

اور الله تعالیٰ سے دعا کرنی ہے کہ الله ہمیں ان غلط راستوں پر چلنے سے محفوظ فرمائے. (آمین).

الله تعالیٰ  ڈاکٹر اسرار صاحب کی قبر کو جنت الفردوس کا باغ بنائے اور الله تعالیٰ ڈاکٹر اسرار صاحب کی قبر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے. (آمین).  


===== =                  ==========                =========== 

Post a Comment

BE THE FIRST TO COMMENT !!!

Previous Post Next Post