دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو الله تعالیٰ نے پیدا کی ہو اور اس کا کوئی مقصد نہ ہو.
تو یقینی طور پر حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) اور حضرت اسمٰعیل
(علیہ السلام) کی قربانی کے قصّہ کا بھی ایک مقصد تھا .
پر کیا ہم نے اس مقصد کو سمجھا ؟ کیوں الله تعالیٰ نے اتنا بڑا واقعہ کروایا ؟
اس واقعہ میں کیا سبق تھا جو ہم نے لینا تھا ؟
حضرت ابراہیم(علیہ السلام) کے قصہ سے الله تعالیٰ کون سی اہم بات ہمارے دل میں اتارنا چاہتے ہیں؟
اور ہم نے حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) کے قصّہ سے کیا حاصل کیا ؟
الله تعالیٰ نے تقریباً 80 سال کے بعد حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) کو
بیٹا عطا فرمایا جس کا نام حضرت اسماعیل(علیہ السلام)
رکھا.جب حضرت اسماعیل
(علیہ السلام) تھوڑے بڑے ہوۓ اور چلنے پھرنے لگے تو الله تعالیٰ نے
حضرت ابراہیم(علیہ السلام) سے فرمایا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دو.
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) نے فرمایا ٹھیک ہے یا الله جیسے تیرا حکم...
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) نے اپنی ازواج سے فرمایا کہ
حضرت اسماعیل(علیہ السلام) کو تیار کرو ، اچھے کپڑے پہناؤ.
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) نے
حضرت اسماعیل(علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لیا اور اس جگہ کی طرف چل پڑے جہاں پر ذبح کرنا تھا .
وہاں پہنچ کر حضرت اسماعیل
(علیہ السلام) کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور ہاتھ ، پاؤں کو باندھا اور زمین پر
لٹایا اور چھری کو ہاتھ میں لیا اور حضرت اسماعیل
(علیہ السلام) کی گردن پر چلانا شروع کیا (پر الله تعالیٰ نے چھری سے فرمایا کہ نہیں چلنا) اور چھری نہیں چلی .
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) نے چھری کو تیز کر کے پتھر پر مارا تو پتھر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ، پھر دوبارہ
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) نے
حضرت اسماعیل(علیہ السلام) کی گردن پر چھری چلائی لیکن الله تعالیٰ نے چھری کو چلنے سے روک دیا.
لیکن
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) نے اپنی طرف سے سچے دل کے ساتھ چھری چلا دی تھی ... اور اپنی طرف سے
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) نے ذبح کر دیا تھا اور الله تعالیٰ کے حکم کو پورا کر دیا تھا.
الله تعالیٰ نے حضرت جبرائیل
(علیہ السلام)
سے فرمایا کہ جلدی جاؤ اور جنت سے ایک مینڈھا (دنبہ) لے کر جلدی زمین پر جاؤ اورحضرت ابراہیم
(علیہ السلام) کی چھری کے نیچے اس کی گردن رکھ دو.
جیسے ہی مینڈھا (دنبہ) چھری کے نیچے رکھا تو الله تعالیٰ نے چھری کو چلنے کا حکم دے دیا اور چھری چل گئی.
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) نے ہم لوگوں تک اور قیامت تک آنے والے انسانوں تک یہ بات پہنچا دی کہ الله تعالیٰ کو پانے کے لئے اس حد تک بھی جایا جاسکتا ہے کہ الله کو پانے کے لئے بیٹا ذبح کرنا پڑے کردو ، مال لٹانا پڑے لٹا دو ، جھکنا پڑے جھک جاؤ، پیسنا پڑے پس جاؤ ، زندگی لٹانی پڑے لٹا دو.
الله اور الله کے رسول (
صلى الله عليه وسلم) کی خوشی کو پانے کے لیے ان میں سے کچھ بھی کرنا پڑے، کر دو ...
یہ سب سستے سودے ہیں اور بڑے فائدے کے سودے ہیں .
اسی بات کوہمیں سمجھنے کے لئے الله تعالیٰ نے اس واقعہ کو کروایا ، پر ہم نے شاہد ابھی تک
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام)
کے پیغام کو نہیں سمجھا؟؟ہاں لیکن ہم نے
حضرت ابراہیم
(علیہ السلام) کی ہر سال قربانی سے یہ ضرور سمجھا ہے کہ... قربانی کے گوشت کی تکہ بوٹی کیسے بنانی ہے، اور سیخ کباب کیسے بنانے ہیں، چپل کباب کیسے بنانے ہیں ، فریزر میں گوشت کے کتنے شاپر رکھنے ہیں...
یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم نے سیکھیں اور سمجھی ہیں اور جس بات کو سمجھانے کیلئے الله تعالیٰ نے اس واقعہ کو کروایا ، وہ بات ہم نہیں سمجھی ابھی تک..
اور کبھی اس بات کو نہ سمجھنے پر افسوس بھی ہمیں نہیں ہوا. اور نہ کبھی اس بات کا خیال آیا ...
ایسا کیوں ہوا ؟؟ اکیلے بیٹھ کو سوچئے گا ضرور ، کہ یہ زندگی کا ایک بہت اہم سوال ہے.
====== ==============




Post a Comment
BE THE FIRST TO COMMENT !!!