حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں نمرود
نے 'نعوذباللہ' خدائی کا دعویٰ کیا تھا .
الله تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نمرود اور
اس کی قوم کی طرف نبی (علیہ السلام) بنا کر بھیجا تھا کہ
نمرود اور اس کا ماننے والوں کو سمجھاۓ کہ تمہارا رب 'الله'
ہے، اسی کی عبادت کرو.
تو دوستو ! رب اسے کہتے ہیں جو پالنے میں اور رزق دینے میں دنیا کے کسی اسباب اور نقشے کا پابند نہ ہو.
بچپن سے ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایمان و یقین اپنے
الله پر تھا.
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا اور قبیلے کے دوسرے
لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے،
لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بچپن سے ہی الله تعالیٰ کی
عبادت کیا کرتے تھے.
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بچپن اور ریت کی بوری
بچپن میں ایک دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نمرود کی طرف بھیجا کہ جاؤ نمرود سے گندم لے کر آؤ .
نمرود کے دربار میں جو لوگ بھی آتے تھے اناج اور گندم لینے تو نمرود ان لوگوں سے کہتا تھا کہ پہلے مجھے
سجدہ کرو پھر میں گندم اور اناج دوں گا.
لوگ نمرود کے دربار میں آتے ، سجدہ کرتے اور اناج اور گندم لے جاتے .
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی والدہ نے نمرود کی طرف بھیجا کہ جاؤ کچھ گندم اور اناج لے آؤ .
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت چھوٹے بچے تھے ، نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ مجھے سجدہ کرو تو پھر میں گندم یا آٹا دوں گا .
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور نمرود کو سجدہ نہیں کیا، اور کہا کہ میرا رب الله ہے اور میں اسی کو سجدہ کرتا ہوں .
نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو گندم نہیں دی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خالی ہاتھ ہی گھر واپس چلے گئے .
جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گھر واپس جا رہے تھے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ایک تھیلا /بوری / تھی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بوری کو گھر جاتے ہوۓ راستے میں ریت سے بھر لیا اور بوری کو اوپر سے بند کر دیا ، اور گھرجا کر اس ریت کی بوری کو صحن میں ایک سائیڈ پر رکھ کر خود جا کر سو گئے .
کچھ گھنٹوں بعد جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سو کر اٹھے توان کی والدہ نے روٹی پکا کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے رکھی .
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ اماں جان یہ روٹی کہاں سے آئی ؟
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ نے فرمایا کہ بیٹا آپ ہی تو نمرود سے آٹا لے کر آئے تھے، یہ روٹیاں میں نے اسی آٹے سے بنائی ہیں .
پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بات سمجھ آئی کہ میں نے تو تھیلے کو ریت سے بھرا تھا اور میرے رب نے ، الله تعالیٰ نے اس ریت کو اپنے حکم سے آٹے میں بدل دیا .
اس طرح یہ سب دیکھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا الله تعالیٰ پر ایمان و یقین اور بھی مظبوط ہو گیا .
تو دوستو ! الله تعالیٰ ایسا رّب ہے جوایسی قدرت والا ہے کہ
ریت کو آٹے میں تبدیل کردیتا ہے.
ہمارے دل میں اس بات کا یقین اتر جائے کہ
الله تعالیٰ ایسا رّب ہے جو رزق کو ہم تک پوھنچانے میں ہماری دوکانوں کا، ہمارے دفترمیں کام کرنے کا محتاج نہیں، اور دنیا کے کسی نقشے کا محتاج نہیں .
سارے کے سارے اسباب مل کر الله تعالیٰ کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے اور الله تعالیٰ وہ رّب ہے جو سب کے بغیر سب کچھ کر سکتا ہے .
================



Post a Comment
BE THE FIRST TO COMMENT !!!