READ THIS

Air Lines Tickets Book karnay k liye / Emaan-o-Yaqeen k waqiyaat / Deen-e-Islam ki khobsorat aor sahi malomaat hasil karnay k liye hamari Website visit karain www.mydailyroutine2333.blogspot.com

Firon k aik darbari ko Allah Ta'ala ne kis tarhan maaf kiya?


Firon k aik darbari ko Allah Ta'ala ne kis tarhan maaf kiya?


فرعون کے بارے میں تو سب جانتے ہیں کہ یہ وہ آدمی ہے  جس نے (نعوزوباللہ ) یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ میں رب ہوں.

الله تعالیٰ نےفرعون کو ایک بہت بڑی سلطنت اور بادشاہت عطا کی ہوئی تھی ، پر وہ اپنی بادشاہت کے نشے میں بہت سرکش ہو چکا تھا .

الله تعالیٰ نے جب فرعون اور اس کے ماننے والوں کونیل کے دریا میں ہلاک کر دیا، بس ایک آدمی کو چھوڑ دیا اسے ہلاک نہیں کیا ،  اور یہ آدمی فرعون کا ایک درباری تھا جس کا ایک عمل الله تعالیٰ کو بہت پسند آیا جس کی 
وجہ سے الله تعالیٰ اس بچا لیا .

فرعون کا درباری اور اس کا عمل جو الله تعالیٰ کو پسند آیا:

Firon k aik darbari ko Allah Ta'ala ne kis tarhan maaf kiya?

فرعون جب اپنے تخت پر بیٹھتا تو اس کے دائیں ، بائیں فرعون کے درباری بیٹھا کرتے تھے .

جب حضرت موسیٰ  (عليه السلام) فرعون کے پاس دین اسلام کی دعوت دینے آیا کرتے اور  جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) اسلام کی دعوت دے کر واپس چلے جاتے تو فرعون کا ایک درباری فرعون کے سامنے آ کرحضرت موسیٰ  (عليه السلام) کی نقل اتارتا .

جس طرح کے کپڑے حضرت موسیٰ  (عليه السلام) نے پہنے ہوتے تھے وہ درباری بھی بلکل ویسے ہی کپڑے پہن کر آتا .

جس طرح کا عصا حضرت موسیٰ  (عليه السلام) نے پکڑا ہوتا ویسا ہی عصا اس درباری نے بھی پکڑا ہوتا .

جس انداز سے حضرت موسیٰ  (عليه السلام) بات کیا کرتے وہ درباری بھی اسی انداز میں بات کیا کرتا تھا .

جس انداز سے حضرت موسیٰ  (عليه السلام) چل کر آتے تھے وہ درباری بھی اسی انداز سے چل کر آتا دربار میں فرعون کے سامنے .

الغرض کےحضرت موسیٰ  (عليه السلام) کے جانے کے بعد  وہ درباری جیسے  حضرت موسیٰ  (عليه السلام)  اسلام کی دعوت دیتے تھے بلکل اسی انداز میں فرعون کے سامنے دعوت دیتا تھا اور حضرت موسیٰ  (عليه السلام) کا مذاق اڑاتا تھا اور فرعون اور اس کے درباری ہنستے اور تالیاں بجاتے تھے ، مذاق اڑانے کی نیت سے.

جب الله تعالیٰ نے دریاے نیل میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے ہلاک کر دیا اور وہ سب ہلاک ہو گئے تو کچھ دن بعد حضرت موسیٰ  (عليه السلام) نے اسی درباری کو چلتے پھرتے دیکھا تو حیران رہ گئے اور الله تعالیٰ سے فرمایا کہ یا الله  یہ تو وہ آدمی ہے جو میرا مذاق اڑاتا تھا اس پر تو مجھے سب سے زیادہ غصہ ہے اور یا الله آپ نے باقی سب کو ہلاک کر دیا اور اس کو چھوڑ دیا ہے .

الله تعالیٰ نے فرمایا  موسیٰ  (عليه السلام)  جب وہ آپ کی نقل اتارتا تھا ، 

الله تعالیٰ نے فرمایا  موسیٰ  (عليه السلام) جیسے آپ بولتے تھے وہ بھی ویسے ہی بولتا تھا ،

الله تعالیٰ نے فرمایا  موسیٰ  (عليه السلام) جیسے آپ چلتے تھے وہ بھی ویسے ہی چلتا تھا ،

الله تعالیٰ نے فرمایا  موسیٰ  (عليه السلام) جس طرح آپ عصا پکڑتے تھے وہ بھی ویسے ہی عصا پکڑتا تھا ،

الله تعالیٰ نے فرمایا  موسیٰ  (عليه السلام) جس طرح آپ اسلام کی دعوت دیتے تھے وہ بھی اسی انداز میں بولتا اور دعوت دیتا تھا .

الله تعالیٰ نے فرمایا  موسیٰ  (عليه السلام) جب جب وہ درباری آپ کی نقل اتارتا تھا تو مجھے بہت اچھا لگتا تھا.

الله تعالیٰ نے فرمایا  موسیٰ  (عليه السلام) میرا دل نہیں چاہا کہ میں اس درباری کو عزاب دوں .

تو دوستو ! آج ہم بھی اپنے پیارے نبی حضرت 

محمدﷺ کی نقل کر لیں اپنی زندگی کے معاملات میں اور زندگی کر ہر شعبہ میں ،  تو الله تعالیٰ ہم سے بہت خوش ہو جائے گا (انشاءاللہ).


===============   ======= 























    
   












Post a Comment

BE THE FIRST TO COMMENT !!!

Previous Post Next Post