اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے اپنی قدرت سے اس کائنات کو وجود عطا فرمایا اس لیے اللہ تعالیٰ اس کائنات اوراس دنیا کے بارے بہتر جانتا ہے.
اللہ تعالیٰ اس دنیا کی حیثیت کو کس انداز سے بیان کرتا ہے ؟
ایک مثال بیان کر کے اللہ تعالیٰ ہمیں اس دنیا کی حیثیت کو سمجھاتا ہے اور ہمارے دل میں اتارنا چاہتا ہے .
جس دنیا کے پیچھے ہم اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کے احکامات
توڑنے میں ذرا دیر نہیں کرتے اس دنیا کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ کے سمجھانے کا خوبصورت انداز:
ایک کپڑے کا ٹکڑا (ٹاکی) جسے ہم گھر میں استمعال کرتے ہیں گھر کی اشیا مٹی جھاڑنے کے لیے ، کچھ عرصہ انسان کپڑے سے گھر کے ٹیبل اور کرسی اور کھڑکیاں وغیرہ صاف کرتا رہتا ہے ،
پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ کپڑا صفائی کے قابل نہیں رہتا تو ہم اسے لیر بنا لیتے ہیں ، اس کپڑے کو گیلا کر کے پانی کے ساتھ فرش پر مرتے ہیں فرش صاف کرنے کے لیے..
پھر اس کپڑے سے فرش کی صفائی کرتے کرتے ایک عرصے کے بعد وہ کپڑا فرش کی صفائی کے بھی قابل نہیں رہتا ، تو ہم اس کپڑے کو اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیتے ہیں .
اور پھر گلی میں ایک جانور جس کا نام "کتا " ہے وہ دوڑتا ہوا آتا ہے اور اپنی ناک سے سونگھتا ہے اس کپڑے کے پاس آ کر یہ سمجھتے ہوۓ کہ یہ کوئی کھانے کی چیز ہے .
کتا اس کپڑے کو سونگھ کر کپڑے کو وہیں چھوڑ کر واپس چلا جاتا ہے اور وہ کپڑا اسی جگہ پڑا رہتا ہے .
تو دوستو ! اللہ تعالیٰ کے ہاں اس دنیا کی حیثیت بلکل اسس کپڑے کے ٹکڑے کی طرح ہے جسے اس جانور نے بھی منہ نہیں لگایا اور سونگھ کر چلا گیا .
اللہ تعالیٰ اس مثال کو بیان کر کے ہمارے دل میں اس بات کو اتارنا چاہتا ہے کہ ہمارا دل اس بات کو سمجھیں کہ دنیا کی حیثیت اس کپڑے کے ٹکڑے کی طرح ہے جسے کتے نے سونگھ کر اسی جگہ چھوڑ دیا.
دلوں کی صفائی کے لیے اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے .
جن لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اس بات کو اتار دیتا ہے پھر وہ دنیا کے پیچھے اس طرح نہیں بھاگتے جس طرح ہم بھاگ رہے ہیں ، پھر وہ لوگ دنیا کی خاطر اللہ تعالیٰ کا اور اللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کے احکامات نہیں توڑتے .
========= ========= ==========



Post a Comment
BE THE FIRST TO COMMENT !!!