حضرت عمر (رضي الله عنه) یہ وہ مبارک ہستی ہیں جن کہ بارے میں الله کے پیارے رسول حضرت
محمدﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی
(عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ) نہیں آئے گا قیامت تک، لیکن اگر میرے بعد کوئینبی
(عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ) ہوتا تو وہحضرت عمر (رضي الله عنه) ہوتے.
حضرت عمر (رضي الله عنه) جیسا حکمران نہ پہلے کبھی آیا اور نہ ہی قیامت تک کوئی ایسا حکمران آ سکتا ہے.
حضرت عمر (رضي الله عنه) جب خلیفہ بنے تو اپنی عوام (لوگوں) کا اس قدر خیال رکھا کرتے تھے کہ راتوں کو گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے، جاننے کے لئے کہ کون کس حال میں ہے؟
کس کے گھر میں کتنا آٹا اور گھی اور کتنا راشن ہے تا کہ ان لوگوں تک یہ تمام اشیا کو پہنچایا جا سکے.
ایسے ہی ایک مرتبہ گلیوں کا گشت کرتے کرتے حضرت عمر (رضي الله عنه) ایک گھر کے پاس پہنچے تو گھر کے اندر سے کچھ آواز آئی تو حضرت عمر (رضي الله عنه) اس گھر کے دروازے کی باہر غور سے ایک ماں اور بیٹی کی باتیں سننے لگے .
اس گھر کی اندر ایک ماں اور اس کی بیٹی آپس میں کچھ بات کر رہے تھے،
ماں نے کہا بیٹی آج بکریوں نے دودھ کم دیا ہے تو ایسا کرو دودھ میں تھوڑا سا پانی ملا دوکہ مطلوبہ مقدار پوری ہو جائے.
بیٹی نے کہا اماں جان کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) نے دودھ میں پانی ڈالنے سے
منع فرمایا ہے.
دوران گفتگو ماں اور بیٹی دونوں کو نہیں پتا کہ
امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) باہر دروازے پر ہماری باتیں سن رہیں ہیں.ماں نے کہا بیٹی امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) بھلا کون سا ہمیں دیکھ رہے ہیں؟
بیٹی نے ماں سے کہا کہ اماں جان امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) نہیں دیکھ رہے لیکن امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) کا رّب (الله) تو دیکھ رہا ہے.
امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) نے جب اس لڑکی (بیٹی) کی یہ بات سنی
کہ امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) نہیں دیکھ رہے لیکن امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) کا رّب (الله) تو دیکھ رہا ہے. تو بہت متاثر ہوۓ اور بہت خوش ہوئے.
اور اس لڑکی کی اس خوبی کو دیکھ کر، اور اس لڑکی (بیٹی) کی ایمان کی اس کیفیت کو دیکھ کر، اور اس لڑکی (بیٹی) کا الله تعالیٰ سے تعلق کو دیکھ کر اسی وقت اس لڑکی کو اپنے بیٹے کے ساتھ شادی (نکاح) کے لئے پسند فرما لیا.
اور پھر اس امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اپنے بیٹے کیلئے اس لڑکی کے گھرنکاح کا پیغام بھیجا اور اس طرح اس لڑکی کی شادی امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) کے بیٹے سے وہ گئی.
اور پھر الله تعالیٰ نے اس لڑکی (بیٹی) سے امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) کے بیٹے کو ایک بیٹی عطا فرمائی... اور پھر اس بیٹی سے الله تعالیٰ نے ایک بیٹا عطا فرمایا... جسے آج ہم حضرت عمر بن عبد العزیز
(رحمه الله)
کے نام سے جانتے ہیں.تو دوستو! امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اس لڑکی میں جو خوبی دیکھی... وہ اس لڑکی کا الله سے تعلق تھا ، وہ اس لڑکی کے ایمان کی کیفیت تھی.
تو دوستو! یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے کہ ہم بھی جب شادی کا ارادہ کریں تو
امیرالمومین حضرت عمر (رضي الله عنه) کی اس سنت اور طریقے کی پیروی کیا کریں، یہی ہماری دنیا اور آخرت کی لئے بہتر ہے.
=========== = ====== ==============


Post a Comment
BE THE FIRST TO COMMENT !!!